يوں نہ تھا ميں نے فقط چاہا تھا يوں ہو جائے

راشد کامران

ٹوپی ٹرانسفر

July 2nd, 2008
3

ٹوپی ٹرانسفر جیسے کھیل سے کون واقف نہ ہوگا۔ ہمارے لیے تو یہ قومی کھیل کا درجہ رکھتا ہے۔ اسکی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کے ملک کے چھوٹے سے چھوٹے آدمی سے لے کر صدر اور وزیر اعظم تک اس کھیل کو روزانہ کی بنیاد پر کھیلتے ہیں۔ صرف ان قارئین کی دلچسپی کے لیے جو اب تک اس عظیم کھیل سے واقف نہیں ٹوپی ٹرانسفر کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے۔

ٹوپی ٹرانسفر دراصل ایک ایسا کھیل  ہے جس میں آپ ہر قسم کی ذمہ داری (ٹوپی) کسی دوسرے کھلاڑی پر ٹرانسفر کرتے ہیں۔ دوسرا کھلاڑی اسے آگے پاس کردیتا ہے اسطرح مسئلہ (ٹوپی) جوں‌کا توں ادھر سے ادھر ٹرانسفر ہوتا رہتا ہے۔ ٹرانسفر ٹیم کے کھلاڑیوں کی تعداد ٹوپی کی قسم کے حساب سے بڑھتی یا گھٹتی رہتی ہے اور ٹوپی ٹرانسفر روکنے کے لیے مختلف رنگوں میں دستیاب قائد اعظم کی تصاویر استعمال کی جاتی ہیں۔ قائد اعظم کی تصویروں کے رنگ اور مقدار کا انتخاب ٹوپی کی موجودہ صورت حال کے حساب سے کیا جاتا ہے ورنہ ٹوپی الٹی ٹرانسفر ہوجاتی ہے۔اس کھیل میں سب جائز ہوتا ہے اور فاؤل نہ کھیلنا ہی اس کھیل کا سب سے بڑا فاؤل ہے۔

مقامی سطح پر سرکاری اداروں اور چھوٹے بڑے کاروباری مراکز میں ٹوپی ٹرانسفر کے ٹورنامنٹ روز مرہ کی بنیاد پر چلتے رہتے ہیں۔ جیسے آپ کسی سرکاری ادارے میں کسی کام سے جائیں تو آپ کی فائل(ٹوپی) ایک میز سے دوسری میز پر ٹرانسفر ہوتی رہتی ہے حتی کے آپ میز پر موجود کھلاڑی کی حیثیت کے حساب سے قائد اعظم کی تصویریں ٹوپی کے ساتھ منسلک کردیں۔

قومی سطح پر ٹوپی ٹرانسفر کے بڑے بڑے ٹورنامنٹ منعقد کیے جاتے ہیں جیسے ججوں کی بحالی کی ٹوپی۔ یہ ٹورنامنٹ کئی کئی مہینوں چلتے ہیں اور مختلف کھلاڑیوں کے گروپس جنہیں کمیٹیاں بھی کہا جاتا ہے مرحلہ وار ٹوپی ٹرانسفر میں شرکت کرتے ہیں۔ اس فارمیٹ کا نتیجہ ہمیشہ ایک ہی آتا ہے یعنی ٹوپی اپنی ہیت اور اہمیت دونوں کھو دیتی ہے ۔

بین الاقوامی سطح پر ٹوپی ٹرانسفر کا ورلڈ کپ بنا کسی شیڈول کے منعقد کیا جاتا ہے اور اس میں کمزور ترین ٹیم ہمیشہ ٹوپی تلے پھنس جاتی ہے۔۔ جیسے دہشت گردی کی عالمی جنگ کی ٹوپی ہمیشہ پاکستان پر آجاتی ہے۔ یا نیٹو افواج کی ناکامی کی ذمہ داری۔ جیسے عراق میں تباہی کی ذمہ داری عراقی حکومت پر اور خوراک کے بحران کی ذمہ داری بھارت کی بڑھتی ہوئی بھوک پر۔

پاکستانی اس کھیل میں اپنا ثانی نہیں رکھتے گو کہ بین الاقوامی سطح پر انہیں ویسی پذیرائی نہیں ملتی لیکن  گلی محلوں سے لے کر محلات تک میں انتہائی اعلی درجے کی ٹوپی ٹرانسفر کھیلی جاتی ہے۔ قومی سطح پر ٹوپی ٹرانسفر کا ٹورنامنٹ ابھی جاری ہے اور آصف زرداری، نواز شریف، فوج، قدیر خان، معزول جج اور عوام آخری مرحلے میں پہنچنے والے کچھ اہم کھلاڑی ہیں۔ امید ہے کے اس ٹورنامنٹ کے اختتام پر تاریخ رقم ہوجائے گی ۔۔ یا تو ٹوپی نہ رہے گی یا پھر کھلاڑی

موضوع  سياست, طنزومزاح, معاشرہ, پاکستان, کھیل | 3 تبصرے »

اب کسے ٹیگوں ؟‌

June 23rd, 2008
3

سب سے پہلے تو “لیٹ لطیف“ بننے کی معذرت لیکن پچھلے دو ہفتے مصروفیات ضرورت سے زیادہ بڑھی ہوئی تھیں۔

جہانزیب نے ٹیگ کا یہ کھیل شروع کیا اور مجھے ماوراء،  ابوشامل، خرم شہزاد اور محمد وارث صاحب نے ٹیگ کیا اور بدتمیز (صاحب) نے یاد دہانی کروائی۔ آپ احباب کا شکریہ۔

اس کھیل کے قوانین

ا) کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے ۔
ب) جِس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے ۔
ج) سوالات کے اخیر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے ۔

سوالات اور جوابات
1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟
سیاہ۔ میری ساری جرابیں سیاہ ہیں

2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟
پبلک ریڈیو انٹرنیشنل

3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟
ایک اچھے دوست کے گھر کوفتے

4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟
A Raisin in the Sun

5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟
ًمیں نے ایک خواب دیکھا ہے۔

6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟
گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔

7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟
جارج بش ( انسانی تاریخ میں ایسی غلطیاں روز روز نہیں ہوتیں )

غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟
غصہ کر کے۔

9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟
امی سے

10) آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟
ہر تہوار جو اپنے ساتھ دو اضافی چھٹیاں لے کر آئے۔

اس تحریر کو پڑھنے والا ہر خاص و عام اپنے آپ کو ٹیگ شدہ سمجھے کیونکہ ٹیگ زیادہ ہوگئے ہیں اور بلاگرز کم پڑ گئے ہیں :)

موضوع  احباب, میرا بلاگ | 3 تبصرے »

بنیاد پرست کلیسا

June 16th, 2008
15

ڈاونشی کوڈ مووی کو کلیسا میں‌ عکس بندی سے روک دیا گیا۔ تھوڑی دیر کے لیے تصور کیجیے کے کلیسا کے بجائے کوئی مسجد ہوتی اور روکنے والے پادریوں کے بجائے ملا ۔۔ دنیا میں بھونچال آجاتا۔۔ اتحادی طیاروں کے زنگ اتارے جانے لگ جاتے۔۔ مسلمان ملکوں میں قیامت آجاتی۔۔ لیکن یہ معاملہ کیونکہ مذہبی ہے اور مسلمانوں کا معاملہ مذہبی نہیں بلکہ کچھ اور ہوتا ہے چناچہ اس سے صرف نظر کر لیا جائے گا۔۔ عیسائیوں کو قدامت پرستی کا طعنہ بھی نہیں ملے ۔۔ہمارے جیسے “روشن خیال“ ٹامک ٹوئیاں مار کر رہ جائیں گے۔۔

موضوع  دیار غیر, سياست, طنزومزاح, مذہب, معاشرہ | 15 تبصرے »

یہ دن دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہ گیا۔۔۔

June 16th, 2008
9

یہ دن دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہ گیا۔۔۔ بڑے دنوں کے بعد افغانستان کے عجیب سے صدر کی دھمکی سن کے مجھے نہ جانے کیوں یہ یاد آگیا۔۔ یعنی اب پاکستان کو یہ دن بھی دیکھنے تھے کے ایک شخص جو اپنے ملک میں چار قدم پیدل نہ چل سکتا ہوں دوسرے ملک وہ بھی پاکستان جو برسوں سے اسکی عوام کا بوجھ اٹھائے اپنے معاشرے کو تباہی کے دہانے تک لے آیا ہے۔ جو اگر افغانستان کو کھانے پینے کی سپلائی روک دے تو کرزئی کو دن میں تارے نظر آجائیں پر چڑھائی کی دھمکی دے رہا ہے ۔۔ اپنے جیلوں‌کی حفاظت ہو نہیں سکتی ۔۔ دوسرے ملکوں پر چڑھائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔۔ اور ہمارے وزیر اعظم کا کہنا ہے کے پاکستان پر کسی کو چڑھائی کی اجازت نہیں دیں گے۔۔ یعنی پہلے ہمارے وزیر اعظم کو ایک درخواست آئے گی کہ “‌بخدمت جناب وزیر اعظم ہمیں پاکستان پر حملے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔ فقط کرزئی“ اور وزیر اعظم کہیں گے۔۔ “آں‌آں ۔۔۔ اجازت نہیں ہے “‌۔

پاکستان کی حکومت کو افغانستان کے صدر کو انکی اوقات اب یاد دلا دینی چاہیے اور کم از کم اتنی عزت کے تو ہم بھی حقدار ہیں کے اتحادی فوجیں یا امریکہ بہادر ہم پر حملہ کریں ۔۔ نہ کے افغانستان کی فوج ۔۔

افغانستان کی فوج ہے کیا؟ شاید افغان ریلوے کے ملازمین کو فوج میں بھرتی کرلیا گیا ہے ۔

موضوع  دیار غیر, سياست, پاکستان | 9 تبصرے »

شہر کراچی ہے جس کا نام

June 9th, 2008
5

نیشنل پبلک ریڈیو آزادنہ خبروں کے حوالے سے ایک معتبر نام جانا جاتا ہے اور مجھے ذاتی طور پر اسکی خبروں اور تبصروں کا انداز بہت پسند ہے ۔ پچھلے دنوں اربن فرنٹیر کے نام سے ایک سیریز میں کراچی کے حوالے سے نہایت معلوماتی سیریل این پی آر پر نشر کی گئی۔ اربن فرنٹیر میں کراچی شہر کو سر فہرست رکھا گیا اور میزبان نے کراچی کو سر فہرست رکھنے کے حوالے سے اپنا دلچسپ خیال بھی پیش کیا۔

آپ یہ سیریل این پی آر پر یہاں سے سن سکتے ہیں ۔ یہ ایک طویل سیریل ہے اور اس میں بیان کردہ کچھ دلچسپ باتیں یا یوں کہہ لیں کے بیرونی دنیا کے لیے کراچی کی شکل، کراچی کے باشندوں نے کچھ اسطرح بیان کی۔

فیصل ایدھی نے 12 مئی کے واقعات بیان کیے جب انہیں ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ روکا گیا اور روکنے والوں کا اسرار تھا کے وہ ایمبولینس ڈرائیور کو ہلاک کریں گے کیونکہ فیصل ایدھی کے مطابق اسکے خدوخال دہشت گردوں کے نزدیک ناپسندیدہ تھے۔

کراچی کے ناظم اعلی مصطفی کمال نے ایک نیا نظریہ پیش کیا اور انکے مطابق پشتون لوگ کراچی کے اسٹریٹیجک مقامات پر اپنی آبادیاں قائم کررہے ہیں تاکہ کراچی کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے۔ ریڈیو کا صحافی انکی اس نئی تھیوری سے کوئی خاص متفق دکھائی نہیں دیا۔

اس میں الطاف بھائی بھی ہیں ۔۔ اور اپنی انگریزی تقریر میں الطاف بھائی نے فوج کی ایسی تیسی کی اور اسکے بعد جب صحافی نے ان سے فوجی حکومت میں شمولیت کی بابت سوال کیا تو الطاف بھائی نے کہا “آپ کا کیا مطلب ہے“ غالبا برطانوی اور امریکی انگریزی کے فرق  کی وجہ سے سوال درست طرح سمجھ نہیں سکے۔

جنونی سلمان احمد بھی اپنی دکھ بھری داستان کے ساتھ ہیں۔ فاطمہ بھٹو، ارد شیر کاؤس جی اور کئی اپنے مخصوص انداز میں کراچی کی داستان سناتے نظر آئیں گے۔ یہ ایک اچھی اور غیر جانبدار قسم کی ریسرچ ہے اور بڑے اچھے انداز میں پیش کی گئی ہے۔

موضوع  دیار غیر, سياست, معاشرہ, پاکستان | 5 تبصرے »

اگلے جنم موہے “سوکن“ نہ دیجو

June 4th, 2008
11

معاشرے میں مرد و زن کے تعلقات کے حوالے سے “ہم عورتوں کو کیوں گھورتے ہیں“ اور “بیچارہ مرد“ کے عنوان سے کچھ گزارشات عرض کی تھیں جس میں دوسری شادی کے حوالے سے کچھ خواتین کے تحفظات سامنے آئے۔ زیر نظر مضمون میں میری کوشش ہوگی کے میں کثرت ازواج کے متعلق کچھ معروضات پیش کروں اور اس مقدمہ کی پیروی کروں کے کثرت ازواج دراصل ایک سہولت ہے جس کا مناسب استعمال معاشرے میں سکون کا باعث ہے نہ کے بگاڑ یا خواتین کے استحصال کا۔

سب سے پہلے تو ہم اس چیز کا جائزہ لیں کے دراصل عورت اور مرد کے اختیاری تعلق میں کثرت کی کتنی صورتیں ہوسکتی ہیں (ایک مرد ایک عورت، ایک مرد کئی عورتیں، ایک عورت کئی مرد اور کئی مرد اور کئی عورتیں) اور مختلف تہذیبوں میں انکی قبولیت کا کیا سلسہ رہا ہے۔ اس پہلو پر غور کرنے کا اہم مقصد اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا ہے جسکے سبب عام طور پر لوگوں میں اور خصوصی طور پر خواتین کے حقوق کے علمبرداروں میں یہ خیال عام ہے کے کثرت ازواج کا خیال اسلام کا پیش کردہ ہے اور یہ خواتین کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ حالانکہ صورت حال بالکل اس کے برعکس ہے اور یہ کہنا کے اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے میری نظر میں انتہائی مضحکہ خیز بات ہے کیونکہ اسلام نے چار شادیوں کی اجازت نہیں دی بلکہ چار سے زیادہ ازواج رکھنے پر پابندی لگادی ہے ۔

سب سے پہلی صورت حال تو سامنے کی ہے اور اس میں کسی کو کسی قسم کا تردد نہیں ہے اور خاندان کی بنیادی تعریف ہی ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان رشتہ ہے ۔ دوسری صورت حال میں ایک مرد بیک وقت کئی عورتوں کو اپنے نکاح میں لے لیتا ہے جو انسانی تہذیب میں صدیوں پرانا طریقہ رہا ہے قدیم چینی، یہودیت، اسلام، عیسائیت، بدھ مت اور ہندو مت میں اسکے ثبوت ملتے ہیں اور یہ صورت کسی نہ کسی طور قابل قبول بھی رہی ہے بلکہ کئی تہذیبوں میں یہ غیر معمولی صورت حال تھی ہی نہیں جیسے چینیوں اور عربوں میں اور کثرت ازواج و اولاد اسٹیٹس سمبل کا درجہ بھی رکھتی تھی۔

اسکے بعد غیر معمولی صورت حال جس میں ایک عورت کی کئی مردوں کے درمیان شراکت جیسا کے تبت، نیپال اور چین کے کچھ علاقوں میں اسکی مثالیں ملتی ہیں یا اجتماعی شادی جہاں ایک سے زیادہ مردو عورت باہمی تعلق قائم کرلیں (یہ صورت حال بدرجہ خیال موجود ہے اسکے ثبوت نہیں ملتے اور کچھ فلمیں بھی اس قسم کی بن چکی ہیں جہاں اس قسم کے خاندان کا تصور دیا گیا تھا) ۔

اب تک کی بحث سے ہم یہ نتیجہ تو اخذ کرسکتے ہیں کے اجتماعی شادی اور عورت کی شراکت داری یا عورت کا ایک ساتھ کئی مردوں سے ازدواجی تعلق قائم کرنا معاشرتی اعتبار سے نہ صرف یہ کے کئی مسائل کو جنم دے گا بلکہ بنیادی انسانی فطرت بھی اسکی نفی کرتی معلوم ہوتی ہے اسی وجہ سے آزاد سے آزاد معاشروں میں بھی یہ قبول عام نہ ہوسکی۔ بقیہ دونوں صورتیں نہ صرف یہ کے انسانی ذہن قبول کرتا ہے بلکہ انسانی معاشرت کی بنیادی ترکیب بھی ان سے کسی صورت متاثر ہوتی نظر نہیں آتی بلکہ بسا اوقات کثرت ازواج بہبود معاشرت کا کام ہی کرتی ہے۔

اس مقام سے ہم اپنی بحث کو سمیٹنا شروع کرتے ہیں جہاں ہم اس چیز کو سمجھ سکتے ہیں کہ
1۔ کثرت ازواج ایک نہایت قدیم انسانی تہذیبی عمل رہا ہے۔
2۔ اسلام نے کثرت ازواج کی اجازت نہیں دی بلکہ تعداد ازواج محدود کردی ہے۔
3۔ اسلام نے کثرت ازواج کے لیے جو شرائط نافذ کی ہیں وہ اوسط درجے کے مرد کے لیے پورا کرنا انتہائی مشکل ہے چناچہ اسلام نے کبھی کثرت ازواج کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے اس پر مکمل پابندی کیوں نہ عائد کردی گئی؟ اس چیز کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کے جب وحی کے ذریعے کسی چیز کا راستہ بند کردیا جائے تو پھر قیامت تک کسی انسانی ذریعے سے اس پابندی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس نکتہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک سوال اور اٹھاتے ہیں کے انسان شادی ہی کیوں کرتا ہے۔ ظاہر ہے نسل انسانی کو آگے بڑھانے اور اپنی جنسی اور روحانی خواہشات کی جائز ذرائع سے تکمیل کے لیے انسان شادی کا سہارا لیتا ہے۔ پھر دنیا کے کئی خطوں میں عورت کے لیے مرد کا ساتھ ایک طرح سے لازمی ہے چاہے وہ قانونی تقاضوں کے لیے ہو یا معاشی مجبوریوں کے لیے یا اولاد کی ذمہ داریوں کے لیے. ایک علحیدہ بحث اس سلسلے میں کی جاسکتی ہے۔ گویا تنہائی کی زندگی گزارنا مرد و عورت دونوں کے لیے مشکل کا باعث اور نفسیاتی و جذباتی ہیجان کا باعث ہے۔ خاص طور پر اکیلی عورت کے لیے اولاد کی پرورش بھی نہایت کٹھن ذمہ داری ہے جو مرد کے سہارے کچھ آسان ہوسکتی ہے۔

نوٹ :۔ درج ذیل پیراگراف کی لاجک میں بنیادی غلطی ہے چناچہ اسے بلاگ سے خارج مانا جائے گا ۔۔ تبصروں کے ریفرینس کے لیے اسے بلاگ میں رہنے دیا گیا ہے ِیواین کے اعدادو شمار فراہم کیے گئے ریفرنس سے میل نہیں کھاتے۔

ورلڈ پاپولیشن بیورو کے پچھلے سال کے آبادی کے اعدود شمار کئی نئے یا انوکھے نہیں ہیں۔ دنیا میں عمومی طور پر عورتوں کی آبادی مردوں کی نسبت زیادہ رہی ہے۔ اوسط عمریں بھی مرد کی نسبت عورتوں کی زیادہ ہیں تو اس صورت حال میں جب کے مرد و زن کا تعلق ایک ضروری امر ہے اور رہبانیت اور دیو داسی عام انسان کے لیے قابل قبول نہیں کیونکر ہر عورت کے لیے ایک مرد میسر ہو؟ اگر کثرت ازواج پر بین الاقوامی پابندی عائد کردی جائے تو کئی عورتوں کے لیے مرد دستیاب ہی نہ ہونگے تو اس صورت میں کثرت ازواج کے مخالفوں کا عورتوں کو کیا مشورہ ہوگا؟ کیا وہ انہیں باوقار طریقے سے کسی مرد کے دوسرے نکاح میں آنے کا مشورہ دیں گے یا غیر فطری اور ناجائز ذرائع سے اپنی ضرورتوں کا حصول ؟‌ یا پھر انہیں بازار سجانے کا مشورہ زیادہ مناسب رہے گا؟

آپ مجموعی صورت حال کے تناظر میں قانون سازی کر کے کثرت ازواج پر پابندی لگا سکتے ہیں جیسے بھارت میں کئی جگہوں پر بیٹیوں کی پیدائش کو ابورشن سے روکنے کی وجہ سے عورتوں کی آبادی کی شدید قلت ہے۔ انسانی پابندیوں پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے انکی خرابیاں واضح ہونے پر ان میں ردو بدل کیا جا سکتا ہے لیکن وحی کی پابندی تا قیامت ہوتی ہے۔ مذہب کی فراہم کردہ ایک سہولت کے نامناسب استعمال پر اسے خواتین سے زیادتی نہیں سمجھنا چاہیے اور مناسب طریقے سے دو شادیاں کرنے والے مردوں کو لعن طعن کرنے کے عمل اسے اجتناب کرنا چاہیے کے وہ معاشرے میں توازن کا باعث ہیں نہ کے خواتین پر ظلم کے مرتکب۔ معاشرتی عدم برداشت اور ثقافتی اقدار کے پیدا کردہ مسائل کو کثرت ازدواج سے منسلک کرنا کسی طور درست نہیں اور اسی وجہ سے کئی بیوائیں جو با آسانی کسی مرد کے نکاح ثانی میں آسکتی تھیں ان بے کار کی رسومات “سوکن“ اور “سوتیلی“ جیسی منفی اصطلاحات کی وجہ سے تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خواتین کو اپنے مجوعی رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے خصوصا پڑھی لکھی اور نوجوان خواتین کو جدید دور کے تناظر میں آبادی کے رجحانات کو سمجھنا ہوگا اور انہیں دوسری عورتوں کے ساتھ آئیڈیل گھروں کی تشکیل کرنی ہوگی۔ میری سمجھ سے بالاتر ہے کے دو خواتین کی آپس میں شادی تو انسانی آزادی ہے لیکن ایک مرد کی چھت تھلے دو عورتوں کا رہنا مغرب کو قبول نہیں، اسٹرپ کلب تو عورت کے لیے قابل قبول ہیں لیکن اپنے شوہر کے دوسری عورت سے جائز نکاح کو غیر قانونی اور غیر انسانی سمجھا جاتا ہے۔

 

روابط:

۔ وکی پیڈیا
How Polygamy Works.
۔ ورلڈ پاپولیشن بیورو کی رپورٹ

موضوع  مذہب, معاشرہ, پاکستان | 11 تبصرے »

کتنے آدمی تھے ۔۔۔

May 31st, 2008
4

کتنے آدمی تھے۔ بظاہر معمولی معلوم ہونے والا یہ جملہ شاید 15 اگست 1975 تک معمولی رہا ہو لیکن شعلے جیسی فلم کے بعد یہ معمولی نہیں رہا۔ اس جملے کو سنتے ہی کانوں میں گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں، گبر کے پیروں کی چاپ اور “تیرا کیا ہوگا کالیا“‌جیسا معرکتہ الآرا مکالمہ کانوں میں گونجنے لگتا ہے۔ “ہم انگریز کے زمانے کے جیلر ہیں“ اور “ارے او سانبھا، کتنا انعام رکھے ہیں سرکار ہم پر“ جیسے مناظر آنکھوں کے سامنے لہرانے لگتے ہیں۔

لیکن میرا موضوع بلاگ شعلے نہیں ہے۔ میں ان عوامل کی تلاش میں ہلکان ہوئے جارہا ہوں جس نے ایک معمولی سے جملے کو اتنی قوت عطا کردی جسکی صرف ایک تکرار بوجھل ماحول کو تازہ دم کردیتی ہے اور کئی اوقات تناؤ بھرے ماحول میں آسودگی کا سامان۔ ان عوامل کے بارے میں متضاد آراء ہوسکتی ہیں۔ شاید درست وقت پر درست الفاظ کا انتخاب، یا پھر الفاظ کو بولنے کا انداز اور ہوسکتا ہے کہ سابقوں اور لاحقوں کی مضبوطی اس کے لازوال ہونے کا باعث بنی ہو۔ بہت ممکن ہے کہ ایسا کچھ بھی نہ ہو اور یہ صرف ایک عام سا جملہ ہو جو دوسرے خواص کے درمیان پھنس کر نمایاں ہوگیا ہو۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ گبر سنگھ کی شخصیت کے ساتھ اسکی وابستگی اسکی پہچان کا باعث ہو یا گبر سنگھ اور اس جملے کا باہمی ملاپ دونوں کی دائمی بقاء کا سبب۔

ایسا کیا ہے ؟‌ ایسا کیا ہے جسکی کمی ہے کے ہم “اتنے آدمی“ ہوکر بھی ایک “کتنے آدمی“ تخلیق نہیں کر پارہے ؟‌

موضوع  دیار غیر, معاشرہ, پاکستان, گوہر نایاب | 4 تبصرے »

بیچارہ مرد

May 27th, 2008
17

کچھ عرصے پہلے عورتوں کے حوالے سے ہمارے ایک معاشرتی رویے کے متعلق ایک بلاگ تحریر کیا تھا۔کئی دوسرے اردو اور انگریزی بلاگرز نے بھی اس سلسے میں اپنا اظہاریہ تحریر کیا جسکی ایک جھلک آپ زیک وژن کی اس پوسٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے کچھ برادران ملت نے اس بات کو دل پہ لے لیا بلکہ کئی ایک نے تو اپنے ذاتی تجربات اور کچھ نے آس پاس کے مشاہدات گوش گزار کیے اور یہ موقف اپنایا کے یہ خیال مکمل طور پر درست نہیں کے معاشرتی رویوں میں گھن کی طرح پسنا صرف عورتوں کے حصے میں ہی آیا ہے بلکہ ایسے کئی معاشرتی رویے اور ثقافتی اقدار ہمارے درمیان رچ بس گئی ہیں جن کی زد میں آکر مرد کی ذات بھی کرچی کرچی ہو جایا کرتی ہے۔

اگر ہم اپنے دائرہ کار کو بر صغیر تک محدود رکھیں تو کچھ مستثنیات کے علاوہ مجموعی طور پر مرد خاندان کی نگہبانی کے فرائض انجام دیتا نظر آتا ہے۔ خصوصا شہروں میں بسنے والے لوگ جہاں ‘گھریلو عورت‘ کی اصطلاح ایک ایسی عورت کے لیے متعارف کرائی گئی جس کا دائرہ کار اپنے گھر تک محدود ہو اور اسکی ذمہ داریوں میں شوہر سے جڑی ہر چیز شامل ہو جس میں شوہر کا گھر، اسکے بچے اور خاندان والے بھی شامل ہیں۔ گو کہ بنیادی طور پر یہ عورت کی مظلومیت کو ہی ظاہر کرتی ہے لیکن اسکے پیچھے چھپی مرد کی بے کسی سے آنکھیں چرالی جاتی ہیں تاکہ ایک عورت کے استحصال کے نام پر عورتیں عورتوں کا مزید استحصال کرسکیں۔

بنیادی طور پر ایک اکیلا مرد عورتوں کے ساتھ بیٹا، بھائی اور شوہر نام کے قریبی رشتوں سے بندھا ہوا ہوتا ہے جہاں اسکی ذرا سی لغزش اسکی جنت سے بے دخلی یا جہنم جیسی زندگی پر انجام پذیر ہوتی ہے۔ خصوصا شادی شدہ مردوں کے لیے یہ تین رشتے ایک ساتھ نبھانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ عورتوں کے درمیان اس فطری چپقلش میں ایک غیر جانبدار ریفری کا کردار ادا کرنے والا مرد میرے نزدیک انتہائی درجے کا مظلوم انسان ہوتا ہے۔ جہاں وہ دن بھر کی محنت سے تھکا ہارا ایک لاچار ایمپائر کے فرائض انجام دیتا نظر آتا ہے جسکا کوئی بھی فیصلہ تمام پارٹیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوتا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ بسا اوقات اسکا درست فیصلہ بھی نافرمان بیٹا، جورو کا غلام، احسان فراموش بھائی یا زن مرید جیسے القابات کے بلے بھی اسکے سینے پر سجا دیتا ہے۔

دوسری طرف ہمارا اجتماعی خاندانی نظام جہاں بہت ساری اچھائیاں لیے ہوئے ہے وقت کے ساتھ ساتھ اصلاحات نہ ہونے کے سبب اپنی افادیت کھوتا جارہا ہے خصوصا شادی بیاہ کے معاملات میں مردوں کو بھی عورتوں کی طرح خوفناک اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ گدھا باندھ کے گھوڑا ڈھونڈنے کا بے ہودہ عمل معاشرے میں اسقدر عام ہوچلا ہے کے مال و زر کے حصول کی کشمکش نے دن کا سکون اور رات کی نیند برباد کر کے رکھ دی ہے۔ خوب سے خوب تر کی تلاش نے بھی مردوں کی اجتماعی صورت حال میں ابتری کی کیفیت پیدا کی ہے اور کئی مظاہر اس امر کے بھی ہیں جہاں عورتوں کی بے جا انا، ضد اور فرمائشی پروگرام کو پورا کرنے کے لیے مردوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی حرام ذرائع آمدن کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بہنوں کی شادیوں کے انتظار اور اس کے لیے وسائل جمع کرنے میں اپنی عمر کی شگفتگی تیاگ دینے والے مرد کی مظلومیت کا نوحہ پڑھنے والا ڈھونڈنے سے بھی ہمارے معاشرے میں نہیں ملے گا۔ جب تمام شادی کے قابل مردوں کی شادیاں موخر کی جاتی رہیں گی تو پھر عورتوں کے لیے بر کی تلاش کیوں کر کی جاسکے گی؟‌ اس سادہ سی جمع تفریق میں عورتوں کو نہ جانے کیوں برسوں لگ جاتے ہیں جس کے بعد نہ بیٹی کے لیے بر دستیاب ہوتا ہے نہ شادی اور بڑھاپے کے سہارے کے لیے بیٹا جو اپنی جوانی عورتوں کی خوشیوں کے لیے تیاگ دیتا ہے۔

خدانخواستہ میں قربانی کے جذبے کے خلاف نہیں لیکن ایسی قربانیوں سے خدا دور رکھے جو معاشرتی عدم مساوات اور معاشرے کے وسیع طبقے خصوصا نوجوان عورتوں اور مردوں میں ہذیانی کیفیت پیدا کرے۔ اور اس وجوہ کا بڑا سبب میں عورتوں کو قراد دوں گا کیونکہ ان معاملات میں عموما عورتیں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں اور ڈھلتی عمر کے بھائی اور بیٹے کے لیے اسکے اپنے جذبات سے بے پرواہ ناک اور قد کی لمبائی اونچائی پر لڑکیوں کے ڈھیر کے ڈھیر ٹکھراتی جاتی ہیں اور آخر کار ایک بوسیدہ اور زندگی سے بیزار معاشرے کی تشکیل کرتی ہیں۔

عربوں میں اور مغربی تہذیب میں وہ لوگ جہاں خاندان کا ادارہ پوری طرح قائم ہے خاندان کے یونٹ کو وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹے ٹکروں میں بانٹ دیا جاتا ہے اور شادی بیاہ کے مسائل میں ایک عاقل اور بالغ مرد و عورت کو اپنا فیصلہ کرنے کی تقریبا آزادی ہوتی ہے اور عموما فیصلے جبکہ وہ خاندانی نظام پر بٹہ نہ ہوں قبول کیے جاتے ہیں۔ جن معاشروں میں دوسری شادی کی اجازت ہے وہاں اس مسئلے کو اتنا پیچیدہ نہیں بنایا گیا جتنا ہمارے معاشرے میں بنا دیا گیا ہے۔ ایک سے زیادہ شادیوں کا نظام جو بنیادی طور پر خواتین کی فلاح کے لیے بنایا گیا تھا اسے خواتین کی بربادی سمجھ لیا گیا ہے اور اس صورت حال میں اگر کوئی مرد دوسری شادی کرلے تو ہمارا معاشرہ اسکا جینا تو کیا مرنا تک دوبھر کردیتا ہے اور اس میں خواتین پیش پیش ہوتی ہیں۔ ذرا ایک ایسے گھر کا تصور ذہن میں لائیے جہاں دو بیویاں اور ایک ماں شام کو کسی مرد کے گھر آنے کا انتظار کر رہی ہیں اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کے کیا صرف عورت ہی مظلوم ہے؟‌

کیا عورتوں کے پاس میرے ان سوالوں کے جواب ہیں جو معاشرے میں خود کو جنم جلی، نازک کلی قرار دے ، آنسہ خود مختار بننے کی جدو جہد میں مصروف ہیں ؟‌ کیا خواتین وقت پڑھنے پر اپنی جنس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ساتھی مردوں کی ترقی میں مشکلات پیدا نہیں کرتیں؟ اور کیا یہ بھی مردوں کے معاشرے میں مردوں کا کیا گیا مرادانہ پروپیگینڈا ہے؟

موضوع  طنزومزاح, معاشرہ, پاکستان | 17 تبصرے »

کوا بریانی

May 16th, 2008
6

آپ نے ٹی وی پر عموما کھانے پکانے کے پروگرام تو دیکھے ہی ہونگے جن میں زیادہ تر کھانوں کی ترکیبیں کوا بریانی کی ترکیبوں سے ملتی جلتی ہیں۔ کوا بریانی بنانے کی ترکیب نہایت آسان ہے۔۔

ایک کلو چاول میں حسب ذائقہ نمک اور بریانی مصالحہ ملا کر چھت پر چھڑک دیجیے۔
کوا کیونکہ سیانا پرندہ ہے لہذا چاول اور بریانی مصالحہ،  مناسب مقدار میں چن چن کر کھانے آپ کی چھت پر آجائے گا۔ اس بات کا خیال رہے کے کوئل کووں میں چھپ چھپا کر بریانی کو بد ذائقہ کرنے نا آسکے۔
جب کوا حسب توفیق چاول کھا چکے تو پیچھے سے دبے پاؤں آن کے اسکو دبوچ لیں اور جھٹ حلال کرکے پہلے سے گرم کیے ہوئے پانی میں ڈال دیں۔ آدھے گھنٹے تک چولہا جلا کے اور کھڑکیاں دروازے بند کرکے انتظار کریں تاکہ کووں کا جم غفیر گمشدہ کوے کی بازیابی سے مایوس ہو کر اپنے اپنے گھونسلوں میں واپس چلا جائے۔

لیجیے صاحب کوا بریانی تیار ہے۔۔

یہ کھانا پکانے کی ماسٹر ترکیب ہے اور آج کل ججز کی بحالی اور ملک کی موجودہ صورت حال کے لیے بھی استعمال کی جارہی ہے۔ تھوڑا بہت اختلاف صرف اس بات پر ہے کے کوا حلال ہے یا حرام۔ زرداری صاحب کا کہنا ہے کے جو کوا ٹھونگ مارتا ہے وہ حرام ہے اور نواز شریف صاحب کا کہنا ہے کہ کیونکہ میں نے بال لگوا لیے ہیں چناچہ کوے کی ٹھونگ کا اثر براہ راست میرے سر پر نہیں پڑنے والا۔ سیلیکشن ہار سیاہ ست دانوں کا خیال ہے کے دو نومبر سے پہلے والے کووں کی بریانی حلال مانی جائے گی لیکن ابھی چھت پر منڈلانے والے کسی کوے کی بریانی حلال نہیں مانی جائے گی۔ مولانا صاحب کا کہنا ہے کے کوئی بھی ایسی  بریانی جو انہیں کسی طرح دوبارہ پاور گیم میں لے آئے اس بریانی پر نیاز وہ خود دیں گے اور مولانا صاحب کے لیے حرام کو حلال کرنا کونسا بڑا مسئلہ ہے۔

بہر حال ہمارا کام تو آپ کو کوا بریانی کی ترکیب بتانا اور اس کے ثانوی استعمال سے آگاہ کرنا تھا اب یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے کے پہلے بغداد جلنے سے بچا لیں یا کوے کے حلال و حرام کا تعین کرلیں۔۔

موضوع  سياست, طنزومزاح, پاکستان | 6 تبصرے »

ہمیں ماتھے پے بوسہ دو۔۔

May 3rd, 2008
4

کہتے ہیں طبیعات کے اصول ماضی حال مستقبل اور خلاء میں یکساں رہتے ہیں۔ بات تو ماننے والی ہے اور کوئی بھی ذی ہوش آدمی اس کی نفی نہیں کرسکتا لیکن چچا نیوٹن اور پھوپھا آئن سٹائن کا ہمارے ملک کے بارے میں کیا خیال ہوتا؟ کیا طبعیاتی اور معاشرتی قوانین میں اس خطہ زمین کے لیے مثتثنیات رکھی جاتیں اور قوانین کچھ اسطرح بیان کیے جاتے

ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے “لیکن“ پاکستان میں صرف رد عمل ہوتا ہے عمل نہیں ۔ مقالے کی منظوری کے لیے ساٹھ سالہ اخباری ردی کے تمام بیانات شائع کیے جاتے ہیں جہاں ہر سیاسی جماعت اور سیاستدان کا رد عمل موجود ہوتا اور عمل نہیں۔ فوجی حکومت ہو یا سیاسی ، بات متنازعہ خاکوں کی ہو یا عراق جنگ گی صرف “ردعمل“‌

ایک عام تاثر یہ بھی ہے کے زیادہ تر ایسی جگہیں جہاں انسان بستے ہوں قانونی کام کرنا آسان اور غیر قانونی کام کرنا پیچیدہ اور مشکل ہوتا ہے “لیکن“ پاکستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں ماورائے آئین کام کرنا ہو تو کسی حیل حجت کی ضرورت نہیں کر ڈالیے، جمہوری حکومت کر برطرف کرنا ہو یا سوموٹو عدلیہ کا نام و نشان مٹانا ہو ماورائے قانون جا کر کرڈالیے کیونکہ جب بات قانون کے دائرے میں بحالی کی آئے گی تو پھر کام پیچیدہ ہوجائے گا اور بقول شخصے
میں مانتا ہوں یہ سچ ہے لیکن، یہ کیسے کہہ دوں یونہی ہوا تھا۔

یہ بھی ایک جانا مانا اصول ہے کے ہر چیز بہتری کی طرف جاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ارتقاء کی منازل طے کرتے ہوئے ہر چیز میں بہتری آتی ہے “لیکن“ پاکستان میں کوئی بھی چیز پہلے دن اپنی بہترین حالت میں ہوتی ہے اسکے بعد ہر گزرنے والا لمحہ “میٹا بولزم“‌ کے عمل کو تیز سے تیز تر کرتا جاتا ہے۔ بات آئین کی ہو یا کسی ادارے کی، بات سڑک کی ہو یا کسی نو تعمیر شدہ عوامی بہبود کے ادراے کی عمارت کی پہلا دن اسکے عروج کا دن ہوتا ہے پھر “کبھی ہم خوبصورت تھے“‌ کی منہ بولتی تصویر۔

خیر صاحب ہم نے تو ہر سائنسی اور معاشرتی قانون آزما کر دیکھ لیا لیکن کوئی اصول اس طرح لاگو نہیں ہوا جیسا کے کتابوں میں لکھا ہے۔ آپ بھی کوشش کریں شاید کوئی کامیابی حاصل ہوجائے؟

موضوع  طنزومزاح, معاشرہ, پاکستان | 4 تبصرے »
« Previous Entries
  • یومیہ

    July 2008
    M T W T F S S
    « Jun    
     123456
    78910111213
    14151617181920
    21222324252627
    28293031  
  • حالیہ تحریریں

    • ٹوپی ٹرانسفر
    • اب کسے ٹیگوں ؟‌
    • بنیاد پرست کلیسا
    • یہ دن دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہ گیا۔۔۔
    • شہر کراچی ہے جس کا نام
    • اگلے جنم موہے “سوکن“ نہ دیجو
    • کتنے آدمی تھے ۔۔۔
    • بیچارہ مرد
    • کوا بریانی
    • ہمیں ماتھے پے بوسہ دو۔۔
  • موضوعات

    • احباب
    • انفارمیشن ٹیکنالوجی
    • دیار غیر
    • سياست
    • شاعری
    • طنزومزاح
    • مذہب
    • معاشرہ
    • میرا بلاگ
    • پاکستان
    • کھیل
    • گوہر نایاب
  • حالیہ تبصرے

    • راہبر on ٹوپی ٹرانسفر
    • عدنان مسعود on ٹوپی ٹرانسفر
    • میرا پاکستان on ٹوپی ٹرانسفر
  • گزشتہ تحریریں

    • July 2008
    • June 2008
    • May 2008
    • April 2008
    • March 2008
    • February 2008
    • January 2008
    • December 2007
    • November 2007
    • October 2007
    • June 2007
All Rights Reserved. Powered by WordPress